جب ہم فطرت کو صرف مادہ نہیں بلکہ ایک نشانی بھی سمجھ کر پڑھتے ہیں تو کیا بدلتا ہے؟
جب فطرت کو صرف مادہ نہیں بلکہ نشانی بھی پڑھا جائے تو اس کے استعمال کے سوال کے ساتھ یہ سوال بھی آتا ہے کہ وہ کس طرف اشارہ کرتی ہے۔
سعید نورسی کی تشریح: ’’دوسرے کلمے‘‘ میں نورسی مومن کی نگاہ سے دنیا کو اللہ کی تسبیح، ذمہ داریوں اور آزمائش کی جگہ کہتے ہیں۔ وہ مخلوقات کو ان کے رحیم خالق کی کتاب بھی سمجھاتے ہیں۔
عصری غور: یہ نظر فطرت کو توجہ سے اور صرف فوری فائدے کے لحاظ سے نہ دیکھنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ یہ نورسی کی الٰہیاتی تشریح ہے، سائنسی وضاحت یا کسی خاص سائنسی دعوے کا ثبوت نہیں۔